ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ڈیل کے دستاویزات چوری، اے جی: یہ بتایا جائے کیا کاروائی ہوئی : عدلیہ

ڈیل کے دستاویزات چوری، اے جی: یہ بتایا جائے کیا کاروائی ہوئی : عدلیہ

Thu, 07 Mar 2019 02:28:47    S.O. News Service

نئی دہلی:06 /مارچ(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے رافیل ڈیل پر اپنے فیصلے کیخلاف دائر نظر ثانی درخواستوں پر اہم سماعت شروع کر دی ہے۔ سماعت کے دوران جہاں وزارت دفاع سے کچھ اہم فائلوں چوری ہونے کی بات اٹھی، وہیں F۔16 فائٹر جیٹ کا بھی ذکر ہوا۔ اس معاملہ میں سماعت کی اگلی تاریخ سپریم کورٹ نے 14 مارچ طے کی ہے۔ پاکستان کی طرف سے 27 فروری کو F۔16 طیاروں سے ہندوستانی فوجی تنصیبات پر حملے کی ناکام کوشش کا ذکر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ F۔16 سے مقابلے کے لئے رافیل ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ F۔16 اعلیٰ درجہ کی نوع کا جہاز ہے تو کیا ہمیں اس سے بہتر جہاز نہیں چاہئے۔ انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ’ مگ‘ نے اچھا کام کیا ہے، جو 1960 سے بنا ہے۔ اے جی نے کہا کہ معاملہ میں سی بی آئی جانچ سے رافیل کو لے کر ڈیل کو نقصان ہوگا اور یہ ملکی مفاد میں ٹھیک نہیں ہے۔کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ کی طرف سے داخل نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ اب صرف ایک نظر ثانی کی درخواست بچی ہے جسے یشونت سنہا، ارون شوری اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دائر کی ہے۔ اس سے قبل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ رافیل سے منسلک وزارت دفاع سے کچھ فائلوں چوری ہوئیں ہیں۔ اس پر عدالت نے اے جی سے کہا کہ اس معاملہ میں حکومت نے کیا کارروائی کی، اس کے متعلق وضاحت لازمی ہے۔وقفہ طعام کے بعد دوپہر 2 بجے جب سماعت پھر شروع ہوئی تو سپریم کورٹ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ کی جانب سے داخل نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اتنا ہی نہیں، بنچ نے آپ لیڈر کی طرف سے کورٹ پر کئے گئے تبصرے پر سخت رخ اپنایا۔ سنجے سنگھ کی عرضی پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ فیصلے کے بارے میں ان کی طرف سے دیئے گئے بیان بہت ہی اشتعال انگیز ہیں۔ کورٹ نے کہا کہ وہ نظر ثانی عرضی پر سماعت مکمل ہونے کے بعد بیانات کے لئے سنجے سنگھ کیخلاف کارروائی کرے گا لیکن اس سے پہلے سنجے سنگھ کو اپنا موقف رکھنے کا موقع ملے گا۔


Share: